سونی پت،17؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی - ہریانہ کے سنگھو بارڈر پر نوجوان کے بے رحمانہ قتل کے معاملے میں سونی پت پولیس نے آج نہنگ نارائن سنگھ، بھگونت سنگھ اور گووند پریت سنگھ کو عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے تینوں ملزمین کو 6 دن کی پولیس ریمانڈ میں بھیج دیا ہے۔ دراصل، سنگھو بارڈر پر چل رہے کسان آندولن کے اسٹیچ کے پاس جمعہ کو ہوئی لکھبیر سنگھ نام کے شخص کا بے رحمی سے قتل کئے جانے کے معاملے میں سونی پت کرائم برانچ اور پولیس آج دوپہر نہنگ سردار نارائن سنگھ، بھگونت سنگھ اور گووند پریت سنگھ کو عدالت میں لے کر پہنچی تھی۔ اس دوران پولیس نے سول جج جونیئر ڈویژن کمی سنگلا کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے 14 دن کی ریمانڈ طلب کی، لیکن عدالت نے صرف 6 دن کی ریمانڈ منظور کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جج نے کہا ہے کہ تینوں ملزمین کی ہر روز میڈیکل چیک اپ کرنے کے ساتھ ڈی ڈی انٹری ہوگی۔
یہی نہیں، عدالت میں پیشی کے دوران تینوں ملزمین نے جج کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے جج کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے لکھبیر سنگھ کا قتل کیا ہے۔ اس دوران ملزم نہنگ نارائن سنگھ نے کہا کہ میں نے پیر کاٹا تھا، تو بھگونت سنگھ اور گووند سنگھ نے اسے لٹکایا تھا۔
اس سے قبل حادثہ کے دن (جمعہ کو) گرفتار کئے گئے نہنگ سربجیت سنگھ کو سونی پت پولیس نے ہفتہ کے روز عدالت میں پیش کیا تھا، جس کو عدالت نے سات دن کی ریمانڈ بھیجی ہے۔ سربجیت کے لئے سونی پت پولیس نے 14 دن کی ریمانڈ طلب کی تھی۔ ملزم نے اس بے رحمانہ قتل میں کچھ مزید لوگوں کو شامل ہونے کا اشارہ دیا تھا۔ پنجاب کے رتن تارن ضلع کے مزدور لکھبیر سنگھ کی لاش جمعہ کو دہلی - ہریانہ سرحد پر ایک اسپیڈ بریکر سے بندھا ہوا پایا گیا، جہاں زرعی قانون مخالف مظاہرین ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ لکبھیر سنگھ کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ملا تھا اور جسم پر دھار دار ہتھیاروں کے کئی زخم ملے تھے۔ اس حادثہ کے لئے نہنگوں کے ایک گروپ کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا تھا۔